Party Structure
Our dream is of a Pakistan where people have the right to exercise their freedom, to have the opportunity to utilize available resources and work hard to develop their full potential.
Our Mission
The political crisis in Pakistan caused by our corrupt leaders who has undermined the bond of trust between the people and the politicians So this cannot, and will not, be a business as usual,..
Membership
Please join hands with us , download and fill in membership form to show your interest becoming a member of the party. For more details please call us at
+44(0) 7944083670
Donations
Stand behind the issues you care about and help us fight for you. Join us and be part of our journey and bring real change for all and shape our country's future. No matter how small or big , your contribution matters !

 


بسم اللہ الرحمن الرحیم

پاکستان پیپلز الائنس کے منشور کے بیس(20) نکات


 

پاکستان میں جاگیردار،سردار' کرپٹ امراء سرمایہ کاراور جنرلز کے نمائندہ کرپٹ عناصروفاق اور صوبوں میں حکوت کر رہے ہیں۔امراء کلاس صرف اپنے اور ان عناصر کے مفادات کی حفاطت کرتی ہے جو اسے حکومت میں لاتے ہیں یا رکھتے ہیں۔کرپٹ اجارہ دار اور جرائم پیشہ افراد بھی شامل ہو چکے ہیں۔ چہرے بدلتے ہیں۔لیکن مفادات نہیں ۔نظام ہمیشہ پیپلز پاور بننے میں رکاوٹ رہتا ہے۔ اور اکثر غیرملکی آقائوں کے لئے ڈالرز کی خاطر کام کرتا ہے۔

پاکستان کی معاشی اوراقتصادی پالیسیاں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور ورلڈ بنک کے زیر اثر ہیں۔ وزارت خزانہ عالمی اداروں کے نامزد ہوتے ہیں اور سینیٹرز ہوتے ہیں جو عوام کے آگے براہ راست جواب دہ نہیں۔اور یہ سینیٹرز عالمی ایجنڈا کی خدمت کرتے ہیں اور اپنی مارکیٹ کو غیرملکی مصنوعات کے لئے کھولتے ہیں اور اپنی مارکیٹ کو کنٹرول رکھتے ہیں ۔1999-2013 میں کوئی قابل زکر انرجی سیکٹر میںسرمایہ کاری نہ کی گئی اور نہ ہی صنعتی شعبہ میں ۔اس سے ہمارے انرجی سیکٹر میں تیل کے پلانٹ کام کرتے رہےاور ہماری ٹیکسٹال اور دوسری صنعتوں کو نقصان پہنچا۔ یہ صنعتیں بنگلہ دیش اور ملائشیا چلی گئیں ۔یہ اسٹیبلشمنٹ کی جانی بوجھی غیر ملکی مفادات کےلئے کوشش تھی ۔ ترکی بھی ہماری مارکیٹ پہ نظر رکھے ہے اور امریکہ کا دبائو ہے کہ پاکستان کو ہندوستانی مصنوعات کے لئے بھی کھولا جائے۔ عرب امارات کی نظریں ہمارے بنکنگ اور انشورنس سیکٹر پر ہیں ۔ یہ تمام پالیسیاں ہمارے ملک کے سرمایہ کو باہر لے جا رہی ہے۔ اور باہر سے سرمایہ کاری کو روکا جا رہا ہے۔

ہماری کرپٹ مافیا کرپشن سے ہمارے ملک کے تمام وسائل کو کھا رہی ہے یا لوٹ رہی ہےاور وہ سرمایہ منی لانڈرنگ کےذریعہ باہر جا رہا ہے۔ اور پھر سفید کر کے ملک میں لایا جاتا ہے تاکہ مزید لوٹ سکیں۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اپنے غیر ملکی سرپرستی میں پورے نظام کو کنٹرول کر رہی ہے ۔ سویلین حکومت کو اپنے ہر جماعت کے اندر داخل کئے گئے پیادوں سے مات دیتی ہے۔اور حکومت میں وہ پیادے اپنی لیڈرشپ کو اسٹیبلشمنٹ اور ان کے غیر ملکی سرپرستون کی مرضی سے چلاتی ہے۔  فارن پاورز نے اپنے اتحادی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے دہشت گردون کا جال بچھا رکھا ہے ۔ تاکہ پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری ، سیرو سیاحت سے محروم رکھا جائے۔ہماری جساس جگہوں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں ۔

پاکستان پیپلز الائنس اس بات کا تہیہ کئے ہوئے ہے کہ پاکستان کے حکومتی ڈھانچہ کو تبدیل کرکے ملکی مفادات کے زیر اثر کیا جائے گا ۔آئین اور  پارلیمنٹ کو سب اداروں پر سرپرستی حاصل ہو گی ۔ اور ملک کو ایک متحدہ ' امن پسند ،ترقی پزیر اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جائیگا ۔

پاکستان پیپلز الائنس اپنے منشور کے مندرجہ ذیل نقاط کے مطابق پالیسیاں بنائے گی تاکہ پاکستان میں ایک غیر جانبدارانہ منصفانہ معاشرہ کی تشکیل کر سکے

1)پاکستان کے خلاف تمام توڑنے کی سازشون کا مقابلہ کرنےکےلئےملک میں ایک ریفرنڈم کے ذریعہ 12 انتظامی یونٹ قائم کریگی  ۔اور ملک کے تمام وسائل کو برابر تقسیم کیا جائے گا تمام پاکستانی برابر ہوں گے خوہ ان کا کسی بھی فرقہ' مذہب ہا قومیت سے تعلق ہو۔

2)ملک میں ایسے قوانین نافذ کئے جائیں گے کہ جرم' بشمول منشیات فروشی کے خلاف صفر برداشت ( زیرو ٹالرنس ) کا تصور قائم کیا جائے گا ۔ ملک اسلحہ سے پاک ہو گا ۔ عوام کی حفاظت کی ذمہ داری قانون ناٖفذ کرنے والے اداروں کی ہو گی

3)ملک کی خود مختاری قائم رکھنے کے لئے کسی بھی فارن سیکیوریٹی ایجنسی کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ قانون کی عملداری اور اسکی عزت افزائی کو ممکن بنایا جائیگا اور قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہو گا ۔ اسکے بغیر امن قائم رکھنا ممکن ہی نہیں  ۔

4)سستے اور فوری انصاف کے لئے اصلاحات لائی جائیں گی اور انصاف ہوتا ہوا نظر آئے گا ۔

5)قیمتون کو بڑھانے والے تمام گٹھ جوڑ توڑ دیئے جائیں گے ۔ مقابلے کا رجحان قائم کیا جائے گا اور آئین کے مطابق کمپیٹیشن کمیشن کو با اختیار اور خود مختار بنایا جائیگا ۔

6)ایسا نگراان نظام قائم کیا جائے گا کہ کسی بھی حکومتی عہدہ پر کام کرنے والا اپنے ذاتی مفاد کے لئے کام نہیں کر سکے گا۔ تاکہ تمام عہدے داروں کو اپنی ذمہ داریاں ملکی مفاد میں اور یکسوئی سے ادا کرنے کا موقع ملے۔ کسی کو ذاتی مفاد کے لئے کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

7)جاگیرداری' سرداری اور اجارہ داری جمہوریت کی ضد ہیں ۔ جاگیرداری سرداری اور اسکی تمام اقسام کو معاشرے سے ختم کیا جائے گا ۔ تاکہ ملک میں میرٹ پر لوگ آگے آئیں ۔

8)پٹواری کلچر اگر ختم نہ ہوا تواسکو ختم کرنے کے لئےریکارڈ کو مرکزی سطح پر محفوظ کیا جائے گا تاکہ لوگ آسانی سے اپنا ریکارڈ حاصل کر سکیں  اور رجسٹری کا نطام بھی آسان بنایا جائے گا ۔

9)نظام کو استحصال سے بچانے کے لئے ایک ہی جگہ سے تمام سہولتوں کا نظام قائم کیا جائے گا ۔رشوتکوناقابلبرداشتتصورکیاجائےگااورسختسزائیںدیجائیںگی۔

10)تھانہ کلچر کا خاتمہ کر دیا جائے گا ۔ پولیس ٹھانے صرف اور صرف مظلوموں کی داد رسی کے لئے ہوں گے اور جرائم پیشہ افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے نہ کہ انکے لئےپناہ گاہ

11)  چالان اور تفتیش کا نظام بہتر کیا جائیگا تاکہ جرم کی بیخ کنی ہو اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ جرم جرم ہے اور اسکی سزا ہو گی عدالتی نطام سے گزرے بغیر معاملات آپس میں حل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

12) صنعتوں کے فروغ کے لئے قلیل المدتی اور طویل المدتی منصوبوں پر کام کیا جائے گا تاکہ اندرونی منڈی کی ضروریات کو دیسی مصنوعات سے پورا کیا جائے اور فاضل مصنوعات کو برآمد کیا جائے ۔ تحصیل اور ضلعی سطح پر کواپریٹو بنکنگ کے ذریعہ مقامی کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں کا فروغ کیا جائے گا تاکہ بے روزگاری سے نپٹا جائے اور شہروں مین آبادی کے دبائو کو بھی کم کیا جائے۔ لوگ گائوں کی سطح پر انفرادی اور کواپریٹوز کے زریعہ اپنا کاروبار برھا سکیں گے آسان قسطون اور شراکت کی بنیاد پر قرضے فراہم کئے جائیں گے تاکہ100٪ قرضوں کی واپسی ہو سکے گی اور لوگ اس قابل ہو سکیں گے کہ وہ اپنا کاروبار چلا سکیں ۔ انکی تربیت کے لئے بینک تربیتی مراکز قائم کریں گےجہان پہ ماہرین کی خدمات حاصل ہوں گی ۔

13)تعلیمی اصلاحات لائی جائیں گی تاکہ مقامی تحصیل اور ضلعی سطح پر ہر شعبے میں ماہرین حاصل ہو سکیں ۔ جو مقامی معاشی سرگرمیوں کے فروٖغ مین مد دے سکیں۔تعلیمی ںطام کو ملک کی ضرورتوں کے مطابق ڈھالا جائیگا

14) پاکستان ایک زرعی ملک ہے ڈیری اور پولٹری کی صنعت کا فروغ کیا جائے گا فنانس کوآپریٹو بنکنگ کے زریعہ میسر ہو گا۔

15)قوم کی صحت کو اولین ترجیح حاصل ہو گی صحت کے شعبہ میں مسلسل اصلاحات لائی جائیں گی۔ تحقیق کی حوصلہ افزائی کی جائیگی ۔ تاکہ ملکی مسائل اور مقامی بیماریوں سے بہتر نپٹا جائے۔ اس شعبہ کو ریگولرائز کیا جائے گا تاکہ جعلی ڈاکٹروں اور حکیموں کو لوگوں کی جان سے کھیلنے کی اجازت نہ ہو۔

16)پاکستان کی خودمختاری پر کسی کو بھی کھیلنے کی اجازت نہ ہوگی ۔تمام فیصلے پاکستان کے مفاد میں ہوں گے ۔ پاکستان اسلامی امہ کا حصہ ہو گا اسلامی دولت مشترکہ اور اسلامی دفاع کونسل کی تشکیل کے لئے کام کیا جائے گا۔ کشمیر متنازعہ ہے اور کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراداوں اور کشمیریوں کی مرضی سےحل کی طرف لے جایا جائے گا ۔ملکون کے درمیان تعلقات دو طرفہ مفادات کے تحت ہوں گے اور کسی بھی ملک کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔کسی ملک کوبھی ڈپلومیٹک سٹاف سے زیادہ کسی اور مقاصد کے لئے رکھنے کی اجازت نہ ہو گی ۔ کسی بھی ڈپلومیٹ کو وزارت خارجہ کی منظوری کے بغیر کسی سے ملنے کی اجازت نہ ہو گی پروٹوکول اور حفظ مراتب کا خیال رکھا جائے گا۔ پاکستان نہ کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملا ت مین مداخلت کرے گا اور نہ کسی اور کو کرنے دے گا۔ 

17)لوگوں مین اپنے حقوق کے لئے شعور بڑھایا جائے گا ۔ اور ذمہ داریوں کا احساس بھی دلایا جائے گا۔

18)مقامی سطح پر ایسے پراجیکٹس کا اغاز کیا جائے گا جس سے نوجوانوں اور عورتوں کو قوم کا حصہ بننے مٰن بہتر مدد ملے گی اورا نکی صلاحیتوں کو بہتر انداز مین ادا کرنے کا موقع ملے گا ۔

19)تمام مسالک سے اسلامی نطریاتی کونسل میں نمائنگی دی جائیگی تاکہ مزہبی آہنگی کے لئے اقدامات کئے جا سکیں۔ آئین کے مطابق تمام قوانین کو قرآن اور سنت کے مطابق ڈھالا جائیگا ۔

20)حکومت کے تمام معاملات ایک متحدہ امن پسند ترقی پزیر اورخوشحال ملک اور قوم بننے میں مد د دیں گے ۔

آئیے پاکستان پپلز الائنس میں شامل ہوں تاکہ ہم  مل کر ملک کو ایک متحدہ امن پسند ' ترقی پزیر اور خوشحال ملک بنا سکیں جہاں آئین کی عملداری ہو ۔تمام مسلکی او رقومیتی تعصبات سے بالا ہوں ۔ یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اسکو دنیا کے لئے ایک رول ماڈل بنائیں

پاکستان زندہ آباد

پاکستان پائندہ آباد۔