Party Structure
Our dream is of a Pakistan where people have the right to exercise their freedom, to have the opportunity to utilize available resources and work hard to develop their full potential.
Our Mission
The political crisis in Pakistan caused by our corrupt leaders who has undermined the bond of trust between the people and the politicians So this cannot, and will not, be a business as usual,..
Membership
Please join hands with us , download and fill in membership form to show your interest becoming a member of the party. For more details please call us at
+44(0) 7944083670
Donations
Stand behind the issues you care about and help us fight for you. Join us and be part of our journey and bring real change for all and shape our country's future. No matter how small or big , your contribution matters !

 

Articles & Issues


Posted By : Mehboob Aslam - Pakistan Peoples Alliance Party
   ...
پاکستان میں ھمیشہ کرپٹ سیاستدانوں نے پہلے فوج کو موقع دیا اور بعد میں فوج کو گالی بکی...لیکن یہ شیطانی چکر کیسے ختم کیا جائے؟؟؟  


 اھلیان پاکستان
السلام و علیکم

پاکستان میں آپ اور میں یعنی عوام دوسرے درجے کے شہری ھیں اور پہلے درجے کی شہری وہ ھیں جنھیں اشرافیہ کہا جاتا ھے۔ یہ اشرافیہ سیاستدانوں، فوج اور بیوروکریسی سب کا حصہ ھیں۔۔۔یوں اس اشرافیہ کے مفادات اوپر جاکر ھمیشہ ایک ھو جاتے ھیں جبکہ عوام کو انھوں نے تاثر دیا ھوا ھے کہ اکیلے یہ مسائل کا حل نکال سکتے ھیں اور دوسرے کرپٹ ھیں۔۔۔لیکن اندر سے یہ سارے ملے ھوئے ھیں؟؟؟

نون لیگ کا حالیہ بیانیہ جسمیں وہ جنرل باجوہ کو توسیع دینے کی حکومتی ترمیم کی حمایت کریگی اسی بے شرم اور بے ضمیر بیانیے کا ھی تسلسل ھے جب کرپٹ سیاستدانوں نے محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں آمر جنر ل ایوب خان کا ساتھ دیا تھا یا جب ق۔لیگ نے جنرل مشرف اور بھٹو نے جنرل یحیحی کا ساتھ دیا۔ اگر یہ بے شرم سیاستدان نہ ھوتےتو آج پاکستان کی تاریخ بہت مختلف ھوتی۔

ذرا غور کریں کہ یہ سب سیاسی جماعتیں اپنے اپنے وقت میں فوج کو اپنا باپ بناتی رھیں۔ اور فوج نے بھی اپنی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاھی کے مصداق پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ حالیہ سیلیکٹڈ عمران خان کی حکومت کا حال تو سب کے سامنے ھے ھی لیکن اب نون لیگ کا ”ووٹ کو عزت دو“ والا بیانیہ جسطرح ”بوٹ کو سلامی دو“ والی بے شرمی میں بدلا ھے وہ اس بات کا غماز ھے کہ پاکستان میں سیاستدانوں کی کتے والی دم مشکل ھی سے سیدھی ھو اور یہ سب ملکر کبھی تبدیلی اور کبھی ووٹ کو عزت دو کے نام پر چونا لگا رھے ھیں۔

نوٹ کرنے کی بات یہ ھے کہ ایسا نہیں کہ یہ سب سیاسی جماعتیں حق اور سچ کا راستہ نہیں جانتیں۔۔۔یہ اچھی طرح جانتیں ھیں کہ درست کیا ھے اور غلط کیا ھے۔۔۔جب بھی انکا احتساب قریب آتا ھے یہ ساری سیاسی جماعتیں باتیں تو جمہوریت اور عوام کی بالا دستی کی کرتی ھیں لیکن پھر اس عوامی دباؤ کے باعث یہ سیاسی جماعتیں اس کرپٹ اشرافیہ کے دوسرے ارکان سے ڈیل کرلیتی ھیں اور عوام کے نصیب میں ٹھینگا ھی آتا ھے۔

یہ شیطانی چکر صرف عوام ھی توڑ سکتے ھیں۔۔۔اور وہ ھے عوام میں سے ایک ایسی حقیقی سیاسی قیادت کا اٹھنا جو با اصول ھو، حق کا ساتھ دے، بکاؤ مال نہ ھو اور اپنے ذاتی مفاد پر قوم کے مفادات کو مقدم رکھے۔۔۔کیا ایسی سیاسی قیادت موجود ھے یا پیدا کی جا سکتی ھے؟؟؟ میرا ایمان ھے کہ بالکل ایک ایسی
بااصول اور کھری سیاسی قیادت پیدا کی جا سکتی ھے!!!

ایسی با اصول اور کھری سیاست مڈل کلاس سے اٹھنے کے امکانات زیادہ ھیں کیونکہ مڈل کلاس میں وہ عوام بستے ھیں جو پڑھے لکھے ھیں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ھیں اور وہ اس موجودہ نظام کے استحصال سےبھی خوب آگہی رکھتے ھیں۔ جب تک ایسی عوامی قیادت نہیں ابھرتی یہ موجودہ ڈھکوسلہ جاری رھیگا اور یہ سیاستدان، فوج اور بیو روکریسی کی اشرافیہ اس ملک کے وسائل کو باپ کا مال سمجھ کر کھاتی رھیگی اور عوام انکے بچے کچھے پر ھے اکتفا کریگی۔۔۔

اب عوام پرمنحصر ھے کہ وہ اس موجودہ استحصالی نظام کی مخالفت پر کب اکھٹے ھوتے ھیں۔۔۔لیکن عوام کو کسی خوشفہمی کا شکار نہیں رھنا چاھیئے کہ موجودہ نظام انکے حالات بدل دیگا۔۔۔یہ خوشفہمی عوام کو کبھی بیدار نہیں ھونے دے گی۔

جاتے جاتے۔۔۔امریکہ کے ھاتھوں عراق میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی شھادت اس خطہ میں ایران اور امریکہ میں فیصلہ کن جنگ کیطرف امریکہ کی چال ھے۔ میری نظر میں ایران کو جلدی نہیں کرنا چاھئیے بلکہ ترکی، روس، قطر اور باقی امریکہ مخالف طاقتوں کیساتھ رابطہ کرتے ھوئے مناسب وقت پر اس خطہ میں امریکی مفادات کو ضرب لگانی چاھئیے۔۔۔لیکن افسوس کا مقام یہ ھے کہ ھماری حکومت اس تاریخی موڑ پر ایکبار پھر لشکر یزید کیساتھ کھڑی ھے۔۔۔اور لعنت کے سوا کچھ کما نہیں رھی؟؟؟

اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ھو۔ آمین

والسلام
محبوب اسلم

  پاکستان پیپلز الائنس پارٹی
 



Posted By : Ch. Nabi Ahmad - Pakistan Peoples Alliance Party

سیاسی ورکرز کا امتحان  


 اسلام علیکم

محترم قارئین اکرام 16 دسمبر گزر گیا جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے 16 دسمبر پاکستانیوں اور پاکستان کے لیے بڑا دردناک اور کربناک رہا ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ پہلی مرتبہ سکوت ڈھاکہ کے طور پر اور دوسری مرتبہ آرمی پبلک اسکول پر ہماری قوم کے بچوں کو بے دریغ شہید کیا گیا قتل کیا گیا

میں کوشش کرتا ہوں ہمیشہ ان پہلوئوں پر کم سے کم سے کم لکھوں جن پر بہت سالوں سے لکھا جا رہا ہے توجہ کی جارہی ہے میری کوشش ہوتی ہے ہمیشہ اس پر لکھوں جس کی طرف بہت کم توجہ دی جارہی ہے سقوط ڈھاکہ کے بارے میں ہم سب کو معلوم ہے کہ واقعات کیا ہوئے تھے اور ہم اتنے بے درد ہیں پاکستان دولخت ہوگیا لیکن سبق نہیں سیکھا بنگلہ دیش کے وجود اور قائم ہونے اور ترقی کرتے ہوئے کو دیکھ کر بھی سبق نہیں سیکھا انسانیت کے ناتے سوچوں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے بنگالیوں کے ساتھ اچھا ہی ہوا کہ انہوں نے علیحدہ ملک حاصل کرلیا اور ترقی کر رہے ہیں ہم ترقی تو دور آج تک اپنا پولٹیکل سسٹم کیسے ٹھیک ہو گا اس کا تعین ہی نہیں کرسکے جس کی وجہ صرف ایک سمجھ آتی ہے ملک کے نظام کو چلانے کے لیے جس آئین کو سب نے قبول کرتے ہوئے منتخب کیا اس پر آج تک عمل نہ ہوسکا اداروں کی حدود کا تعین کبھی نہ ہوسکا عدل و انصاف نہ ہوا بہتر عوامی منتخب نمائندے پولیٹیکل سسٹم میں نہ آ سکے

آج بھی ہم لسانی بنیادوں پر علاقائی بنیادوں پر قومیت کی بنیادوں پر تقسیم کردیئے گئے ہیں اور یہ ہماری نسلوں کے خون میں شامل کردیئے گئے ہیں ایک منصوبے کے تحت تاکہ ہم ایک اکائی پر اکٹھے نہ ہوسکیں جس میں صرف ان مٹھی بھر قوتوں کا فائدہ ہے جو ہم پر مسلط رہتے ہیں لیکن ہمیں آج تک سمجھ نہ آئی

16 دسمبر کے ہی دن آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہوا اور 145 کے قریب طلبہ بشمول اساتذہ کے بےدریغ شہید کر دیا گیا اگر آپ غور کریں تو ہمارے ملک میں اکثر چیزیں اتفاق سے بہت زیادہ ہوتی ہیں جیساکہ مسلط کردہ حکومتیں جب ناکام ہونے لگتی ہیں کوئی نہ کوئی دہشت گردی کا واقعہ سرحدوں پر جنگ کے سائے کسی قدآور شخصیت کے قتل کی صورت میں یا دھرنوں اور لانگ مارچ کی صورت میں اتفاق ہوتے رہتے ہیں

لیکن مجھے یقین ہے اور قوم بھی جانتی ہے کہ یہ اتفاق نہیں ہوتے یہ منصوبہ بندی ہوتی ہے اسی طرح سولہ دسمبر کا دن منتخب کیا گیا باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت گو کہ بقول آرمی چیف کے حملہ آوروں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے لیکن بہت سے سوالات ہیں جن کا ابھی جواب باقی ہے لیکن شاید تاریخ کے اوراق میں وہ کہیں گم ہو جائے گا جیسا کہ وہ پٹیشن جو محترمہ فاطمہ جناح کے قتل کی صورت میں 1971 میں عدالت نے قبول کی تھی تاریخ کے اوراق میں کہیں کھو گئی جس طرح لیاقت علی خان زلفقارعلی بھٹو محترمہ بے نظیر بھٹو اور اس جیسے کئی واقعات تاریخ کے اوراق میں ہوگئے جن کا آج تک سراغ نہ لگ سکا شاید یہ چھوٹی باتیں ہیں اس سے بڑی بات بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات ہے کہ ان کی ایمبولینس خراب کیوں ہوئی بروقت ابتدائی طبی امداد کیوں نہ دی گئی حکومتی مشینری نے بے حسی کا مظاہرہ کیوں کیا

بلوچستان میں اور قبائلی علاقوں میں سینکڑوں ایسے افراد ہیں جو غائب ہوگئے تاریخ کے اوراق پر ان کی حقیقت بھی کہیں کھو گئی اسی طرح آرمی پبلک اسکول میں اصل حقائق کیا تھے آج تک معلوم نہ ہوسکا جدید اسلحے سے لیس بنا کسی تردد کے دہشتگرد سکول میں گھس گئے عقل اس بات کو ماننے سے انکاری ہے

جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں ہمارے ملک میں اتفاق سے چیزیں اتفاق سے نہیں ہوتی ان کے پیچھے جو عناصر ہیں ان کا ہمیں کبھی معلوم نہ ہوسکا اسی طرح موجودہ آرمی چیف کے خلاف اعلی عدلیہ کا سوموٹو نوٹس لینا اتفاق نہیں ہو سکتا جو عدالت ایک کاروباری فراڈیے ملک کے سب سے بڑے قبضہ گروپ کے سرغنہ ملک ریاض کو ہاتھ نہ ڈال سکے لے دے کر معاملہ رفع دفع کر دے حالانکہ ثابت ہو چکا کہ اس نے زمینوں پر قبضے کیے منی لانڈرنگ کی وہ ملک کے سب سے بڑے طاقتور ادارے کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع پر سوموٹو نوٹس لے لے حیرت تو ہوگی چلیں جو ہوا اچھا ہوا

جیسے پہلے اتفاق سے اتفاق ہوتے رہے اسی طرح کل 16دسمبر کو سوموٹو نوٹس پر فیصلے کے بارے میں تفصیلی فیصلہ جاری ہوا اب اسی فیصلے کے رو سے جن سیاستدانوں کو ٹھکانے لگایا گیا تھا انکی ذات سے لے کر ان کے گھروں تک کو ہتک کا نشانہ بنایا گیا تھا سیاسی انتقام کے بدترین مظاہرے پیش کیے گئے تھے انہی کے ترلے منتیں کرنی پڑے گی قانون سازی کرنے کے لئے تاکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا قانون بنایا جاسکے یعنی کھیل دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکا تمام اپوزیشن پارٹیوں نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ تو خوب لگایا اور اپنے کڑے وقت میں لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے اس کا خوب چرچا کیا اب وقت آچکا اگر حقیقی طور پر ووٹ کو عزت دینا چاہتے ہیں تو قانون سازی ایسی ہوگی کہ پاکستان کے نصیب کو بدلنے میں اس کا اہم کردار ہوگا

لیکن اگر سینیٹ الیکشن کی طرح پارٹیوں نے اسی طرح کا تماشا پیش کیا اور ایک غیر قانونی عمل کو قانونی شکل دینے میں اپنا کردار ادا کیا تو تاریخ میں اس فیصلے کو سیاہ باب کی صورت میں لکھا اور پڑھا جائے گا اب یہ امتحان عوام کا بھی ہے سیاسی ورکروں کا بھی کہ جن پارٹیوں کے نعرے لگاتے رہے نسل در نسل جن پارٹیوں کے لئے اپنا آپ نچھاور کرتے رہے اگر تو ان پارٹیوں نے کسی بھی ایسے عمل کو سرانجام دیا جو غیر قانونی ہے اس کو قانونی بنایا تو عوام اور سیاسی ورکروں کو اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہوگا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ایماندار صرف سیاسی ورکر ہوتا ہے پارٹیاں اپنے مفادات کے لیے اپنے فیصلے بدلتی رہتی ہیں لیکن سیاسی ورکر ہمیشہ اپنی پارٹی کے ساتھ ساتھ ایماندار ہوتا ہے سیاسی ورکر پاکستان کے ساتھ ایماندار ہوتا ہے میری تمام سیاسی ورکروں سے التجا ہے آنکھیں کھلی رکھیں مستقبل کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے

وسلام چوہدری نبی احمد
 ترجمان پاکستان پیپلز الائنس پارٹی


 


Posted By : Ch. Nabi Ahmed - Pakistan Peoples Alliance Party
کیا فاطمہ جناح غدار تھیں

اسلام علیکم  



 محترم قارئین کرام کل بروز منگل 17 دسمبر 2019 کو پاکستانی تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا اور یہ ان افراد اور اداروں کے لئے جو خود کو آئین اور قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں جو خود کو ریاست سے زیادہ طاقتور سمجھتے ہیں جو عوام کو ہمیشہ بھیڑ بکریاں اور اپنا غلام سمجھتے ہیں ان کے لئے ایک وارننگ ضرور ہے اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کا پرویز مشرف کو پھانسی ہو فرق اثبات سے پڑتا ہے آئین اور قانون سے بالا کوئی بھی نہیں

میں کبھی اس بات پر یقین نہیں کر سکتا کہ ہماری عدالتیں اتنی طاقتور ہو چکی ہیں کہ وہ ڈکٹیٹروں اور طالع آزماؤں کے خلاف انصاف کے فیصلے کر سکیں لیکن کل کے فیصلے سے روشنی ضرور امڈ آئی ہے کہ ان شاء اللہ ایک دن ریاست پاکستان میں قانون اور آئین کی بالادستی ہوگی لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے کل کے فیصلے میں عدالت نے کتنی جرت کا مظاہرہ کیا یہ تو مجھے پتہ نہیں لیکن یہ بات ضرور ہے اس فیصلے کے پیچھے بھی بہت طاقتور قوت ضرور موجود ہے جو اب چاہتی ہے کہ مزید بےعزت نہ ہوا جائے جس قوت کی قدر قیمت اور ذات ریاست کے باسیوں کو اپنی جان سے عزیز تھی اور عزیز ہے چند افراد کے فیصلوں کی وجہ سے ہمیشہ اس کی قدرومنزلت کم ہوتی رہی اب اس عزت کو دوبارہ بحال کرنا ہے جو پاکستان کے لیے خوش بختی کی علامت ہے

معنی خیز بیان ہے ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے کہ پرویز مشرف غدار کیسے ہو سکتا ہے جس آدمی کی آڈیو ویڈیو امریکیوں سے ڈیل کرتے ہوئے موجود ہو اقتدار کی طوالت کے لیے ہر قسم کے اقدام کو کرگزرنے کی یقین دہانیاں ہو ریکارڈ پر موجود ہو کہ چودھری برادران کو اس نے کہا کوئی بم پھاڑ دو لانگ مارچ میں 12 مئی کا واقعہ سب کے سامنے ہے قوم کی بیٹیوں کو بیچ دیا ہو ریاست کے اندر مظلوم شہریوں کو مجبور کردیا گیا ہو کہ وہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے ریاست کے خلاف ہی ہتھیار اٹھا لیں لال مسجد کے اندر معصوم بچیوں بچوں کا قتل عام کروانے کے حکم دیا ہو جس کی ساری عمر کی آمدنی جمع کی جائے تب بھی اتنے وسائل جمع نہ ہو سکیں جتنے فارن کرنسی اکاؤنٹس ثابت ہوچکے ہیں جس نے بلوچستان کو اس حال تک پہنچا دیا ہو کہ وہ پاکستان سے علیحدہ ہونے کی نہج پر ہو وہ غدار نہیں ہوسکتا تو پھر کیا فاطمہ جناح غدار تھیں کمال کرتے ہو

میرے دیرینہ پرانے ساتھی دوست میر ناصر خان جن کا تعلق بلوچستان کے علاقے مستونگ سے ہے کل اس آدمی کو میں نے بڑا خوش دیکھا 13سال کی دوستی میں پہلی دفع اتنا خوش کیونکہ ریاست میں پہلی دفع انصاف ہوا مظلوموں کے ساتھ انصاف ہوا میں پنجاب میں بیٹھ کے اس درد کو کبھی محسوس نہیں کر سکتا جس درد کو بلوچستان میں یا قبائلی علاقوں میں بیٹھ کر وہ لوگ محسوس کرتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ کبھی ہتھیار ریاست کے خلاف نہیں اٹھانے چاہئیں یہ قبائل یہ لوگ پاکستان کے محب وطن شہری ہیں لیکن جب اپنے ہی شہریوں کے خلاف ہتھیار کا استعمال کیا جائے گا تو پھر غدار تو پیدا ہوں گے یہاں تو پنجاب میں بیٹھ کر حق سچ کی آواز بلند کرنے والے کو غدار قرار دے دیا جاتا ہے

میں اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعاگو بھی ہو اور اس قوت کا شکر گزار بھی ہوں اور ان سے التجا بھی کرتا ہوں ریاست پاکستان کی حکمرانی اور اس کے فیصلے عوام کو سونپنے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ تاریخ کے ماتھے پر جو داغ لگا ہے وہ دھل سکے اور اس عمل کا بھی راستہ روکا جاسکے کہ حساس اداروں کے سربراہان بشمول عدلیہ کے سربراہان اور سیاستدان ریٹائر ہونے کے بعد پاکستان میں ہی قیام کرنے کے پابند ہوں اور ان کی تمام جمع کردہ پونجی کا حساب کتاب ہو اور ریٹائر ہونے کے بعد وہ ریاست کے لئے مفید ثابت ہوں نہ کہ نقصان دے تمام ادارے اپنا کام اپنی حدود میں رہتے ہوئے سر انجام دے سکیں عدل و انصاف ہو اور جس کا خواب قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے دیکھا تھا پاکستان حقیقی معنوں میں ویسا پاکستان بن سکے اللہ تعالی پاکستان کی خیر کرے پاکستانی عوام کی خیر کرے

وسلام چوہدری نبی احمد
ترجمان پاکستان پیپلز الائنس پارٹی

 


Posted By : Mehboob Aslam - Pakistan Peoples Alliance Party
دو انتہائی اھم معاملات یکے بعد دیگر ظہور پذیر ھوئے۔۔۔آخر کار پاکستانی عدلیہ نے فوجی آمروں کو آئین پاکستان کے تحفظ پر واضح پیغام پہنچایا۔۔۔اور دوسری طرف عمران خان نے حسب توقع اپنے گرو مہاتیر محمد کی پیٹھ پیچھے چھرا گھونپ دیا۔۔۔پہلے ھی بتا چکا ھوں کہ عمران خان سب سے بڑا دو نمبر منافق ھے؟؟؟  



اھلیان پاکستان
السلام و علیکم

آئیے پہلےجنرل آصف غفور کے ڈوبتے دل کو سہارہ دیں۔ وہ کہتے پائے گئے کہ فوج میں عدالت کے فیصلے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ھے۔۔۔جنرل صاحب سے گذارش ھے کہ فوج کے بار بار مارشل لا سے عوام میں اس سے بھی زیادہ شدید غم و غصہ پایا جاتا ھے۔۔۔ اب آپ ذرا حوصلےکا مظاھرہ کریں اور آئین پاکستان کی پاسداری کی ذمہداری کو اتنا آسان معاملہ نہ سمجھیں کہ جب مرضی آئے آپ بھائی لوگ اس کو کاغذ کا ایک ٹکڑا سمجھتے ھوئے پامال کرتے ھوئے گذر جائیں؟؟؟

بڑا شور و غوغاں ھے کہ اصل غدار تو فلاں فلاں کرپٹ لیڈر ھیں۔ عرض ھے کہ یہ سب نہیں تو کم ازکم کچھ بڑے مگر مچھ تو عدالتوں میں پیش ھوئے اور مقدمات بھگت رھے ھیں۔ جو نہیں ھوئے وہ عمران خان کی حکومت کا حصہ ھیں؟؟؟

لیکن جنرل مشرف کو کون سے سرخاب کے پر لگے ھوئے ھیں کہ نہ صرف یہ ریٹائیرڈجنرل خود عدالت کا سامنا نہیں کرتا بلکہ اب اسکے حاضر سروس پیٹی بند بھائی بھی کمر کس کے میدان میں کود چکے ھیں اورعدالت کو دھیمے دھمے سروں میں تڑیاں لگائی جارھی ھیں؟؟؟

لگتا ھے پاکستانی فوج جہاد کشمیر کی ساری کسر اب پاکستانی عدالتوں کو فتح کر کے پوری کریگی۔ باالفاظ دیگر پاکستانی فوج نے قسم کھائی ھے کہ سبق نہیں سیکھنا اور ملکی اقتدار پر چور دروازہ کھلا ھی رکھنا ھے۔ خدارا جمہوریت اور آئین کی بالا دستی کوقائم ھونے دیں۔

چلیں یہ ماتمِ جمہوریت تو کچھ روز ابھی اور چلیگا اور شاید ھمارے نصیب ابھی کچھ عرصہ مزید سوئے رھیں۔ لیکن اب بات کرتے ھیں عمران خان کی تازہ منافقت کا کہ کہاں یہ بندہ مہاتیر محمد کو اپنا گرو گردانتا تھا اور کہاں کشمیر اور اسلام کی سر بلندی کے بلندو بانگ دعوے اور پھر کہاں جب مہاتیر محمد اور ترکی کے اردگان نے آگے بڑھکر اسلامی امہ کو ایک عملیت پسند پلیٹ فارم دینا چاھا تو سب سے پہلے عمران خان بودا نکلا۔ عمران خان نے سعودی عرب جس کی حثیت امریکی غلام سے بڑھکر نہیں ھے کی بات مان کر ملائیشیا کانفرنس میں جانے سے معذرت کر لی؟؟؟

یوں عمران خان نے نہ صرف پاکستان میں اپنے بے شرم یو ٹرن لیکر عوام کی لعن طعن سمیٹی بلکہ اب عالمی طور پر بھی اسلامی دنیا کے بڑے لیڈروں کے سامنے بودا ثابت ھوا۔ اس منافق نے نہ صرف پہلے کشمیر کو بیچا بلکہ اب اسلامی دنیا کے مظلوموں کی مدد کیلئے بنائے جانے والے عالمی پلیٹ فارم کو بھی بننے سے پہلے ھی ثبوتار کر ڈالا؟؟؟

شاید رب العزت دنیائے اسلام کی خدمت کے سعادت اس منافق کے ھاتھ میں نہیں دینا چاھتا۔۔۔عمران خان کی منافقت اور اقتدار کی بھوک نے اسکا اصل قد کاٹھ واضح کر دیا۔۔۔اور میں اب سمجھتا ھوں کہ عمران خان کی صورت میں اللہ تعالی نے ھمارے گناھوں کی سزا ھم پر مسلط کی ھے۔۔۔اللہ ھمارے گناھوں کی بخش عطافرمائے۔ آمین۔

اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ھو۔
محبوب اسلم

 


Posted By : Ch. Nabi Ahmed - Pakistan Peoples Alliance Party
کالعدم قرار دے دیا جائے

اسلام علیکم  



محترم قارئین اکرام جس طرح کا واقعہ لاہور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں پیش آیا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے جس کا اس طرح رونما ہونا پاکستانی معاشرے کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا میں پاکستان کے تشخص کو بڑے گہرے انداز سے نقصان پہنچائے گا کہنے والے کہتے ہیں یہ ڈاکٹروں کی طرف سے کیے گئے واقعہ کا ردعمل ہے لیکن کیا قانون جاننے والے یہ نہیں جانتے تھے کے ریاست میں واقعہ کے ردعمل کے طور پر قانون سے ہی رجوع کرنا بہتر ہوتا ہے اگر وکلاء کھلے عام دہشتگردی کریں گے تشدد کرنے سے توڑ پھوڑ کرنے سے پہلے سوشل میڈیا پر کھلے عام دھمکیاں دیں گے اور ان دھمکیوں پر عمل بھی کریں گے تو کیوں نہ کہا جائے کہ وکلاء کو بھی کالعدم قرار دے دیا جائے کیونکہ وکلاء کا کام معاشرے میں انصاف کی فراہمی میں معاونت کرنے کا ہے نہ کہ دہشت گردی میں ملوث ہونے کا

ڈاکٹر کو مسیحا کا درجہ دیا جاتا ہے یہ بہت بڑا درجہ ہے بہت زیادہ پڑھائی لکھائی کے بعد انسان کے جسم کے ہر حصے کو جانچنے کے بعد اللہ رب العزت کی قدرت کے کرشمے کو جاننے کے بعد اس کی تخلیق کو سمجھنے کے بعد بی اگر شعور نہ آئے انسانیت نہ آئے تہذیب نہ آئے آوارہ گرد لفنگوں کی طرح روز احتجاجی مظاہرے کیے جائیں تو تف ہے ایسی پڑھائی لکھائی پر کیوں نہ ڈاکٹروں کو بھی کالعدم قرار دے دیا جائے

جلا دو مار دو گھسیٹو آگ لگا دوں گا اپنے ہاتھوں سے پھانسی دوں گا پولیس والوں کو نہیں چھوڑوں گا ان کو گریبانوں سے پکڑ کر گھسیٹ کر باہر نکالو ان کے گھروں پر حملے کرو کیا کیا نہ ہوتا رہا میری ریاست کے ساتھ نوجوان نسل کی رگوں میں بدتمیزی اور نفرت انجکٹ کردی گئی جس کے نتیجے کے طور پر عوام کے منتخب آئینی عہدے پر بیٹھے چاہے مسلط شدہ نمائندہ ہی کیوں نہ ہو فیاض الحسن چوہان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا انتہائی قابل مذمت ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے جو بویا تھا وہی کاٹ رہے ہیں اللہ نہ کرے مجھے یہ شروعات لگتی ہے کیوں نا ایسے سیاستدانوں کو بھی کالعدم قرار دے دیا جائے

کہتے ہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس انصاف کے مندر میں روز انصاف کی کرسی پر بیٹھے انصاف فراہم کرنے والے ہی انصاف کا قتل کرتے ہیں اسی لیے ریاست کے طول و عرض میں روز انصاف کی دھجیاں اڑائی جاتی ہے کیونکہ دھجیاں اڑانے والوں کو پتا ہے نا ریاست کےساتھ انصاف ہوگا نا ریاست کے بے بس باسیوں کے ساتھ انصاف یہاں انصاف طاقتور کے گھر کی لونڈئ ہے تو کیوں نہ ایسے انصاف فراہم کرنے والوں کو کالعدم قرار دے دیا جائے

انسان کو شیطان اور شیطان کو انسان بنانے کے ماہر خود کو دوسروں کا آئینہ بتانے والے میڈیا کے کاریگر حکومتوں کو بنانا اور توڑنے میں معاونت فراہم کرنے والے اداکاری کے گرگٹ جن کے الفاظ طاقتور کے سامنے بھیگی بلی بن جایئں جو اسٹبلشمنٹ کے لیے دلالی کا کام سرانجام دیتے ہوں کیوں نہ اسے کاریگروں کو کالعدم قرار دے دیا جائے

عوام کو جاگنا ہو گا کیونکہ ان ساری شعبدہ بازیوں میں نقصان صرف معصوم مزدور عوام کا ہے جسے پتہ ہی نہیں وہ کتنی طاقتور ہے پانی سر سے گزر چکا اٹھو جاگو اور ایسے تمام عناصر کو کالعدم قرار دے دو جو ریاست کو قتل کر رہے ہیں کیونکہ اس ملک اور ریاست کے اصل وارث اور حقدار اور باغبان اور نگہبان تم ہی ہو جاگ جاؤ میری عوام جاگ جاؤ پاکستان تاکہ اس ملک میں قانون کی حکمرانی ہو انصاف فراہم ہو حقدار کو اس کا حق ملے اللہ تعالی پاکستان کی خیر کرے پاکستانی عوام کی خیر کرے

وسلام چوہدری نبی احمد
ترجمان پاکستان پیپلز الائنس پارٹی
 


Posted By : Ch. Nabi Ahmed - Pakistan Peoples Alliance Party
بے حس معاشرہ دلال قانون  



محترم قارئین کرام جس طرح تحریک انصاف کی حکومت بہت کم عرصے میں تمام پاکستانیوں کی نظر میں بری طرح ناکام ہوئی ہے اور موجودہ وزیراعظم عمران خان اقتدار سے پہلے کیے گئے جھوٹے وعدوں اور دعووں سے ایکسپوز ہوئے ہیں پاکستانی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی اور شاید آنے والی پاکستانی تاریخ میں بھی کبھی ایسی مثال نہ بن سکے

نااہلی اور بدانتظامی کی مثالیں ہیں ہی جس طرح معیشت کا بیڑا غرق کیا گیا وہ بھی سب کے سامنے ہے تاریخ میں پاکستان اتنا قرضہ نہیں لے سکا جتنے موجودہ حکومت میں لیے گئے اور ڈویلپمنٹ صفر اچھے اشاریہ دکھانے کے لئے کمرشل بینکوں سے دھڑا دھڑ قرضے لئے جارہے ہیں ہے اور مارکیٹ سے ڈالر اٹھایا جارہا ہے جو معیشت کو مزید دباؤ میں لائے گا اور مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا جو ایک وقت کی روٹی کھانے والوں کے منہ سے بھی نوالہ چھین لے گا

لیکن اس کے ساتھ ساتھ اعلی اداروں اور حکومت کے درمیان جو نیا کھیل شروع ہوا ہے یہ پاکستان کے لیے اچھا شگن نہیں ہے ایک طرف وزیراعظم رعونت اور تکبر کے ساتھ تقریر کرتے ہوئے اعلی عدلیہ کے دو ججوں کا باقاعدہ نام لیتے ہوئے عدلیہ کے فیصلوں پر نکتہ چینی فرما رہے ہیں اور فیصلوں پر نظر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں دوسری طرف یہ کھل کر سامنے آگیا کے چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا سابق وزیراعظم کو علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت وزیراعظم نے خود دی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے انصاف کدھر چلا گیا

وزیراعظم عدلیہ پر ڈال رہے ہیں عدلیہ وزیراعظم پر مطلب انصاف نہیں ہو رہا فیصلے مسلط کئے جارہے ہیں عدلیہ کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرح دلال خانہ بنایا ہوا ہے سوالات تو اٹھانے تھے عوام نے وزیراعظم سے عدلیہ سے جہاں پر طاقتوروں کو چھوڑا جارہا ہے اور مجبوروں بےکسوں و کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں اب پھر دو معصوم بچیوں کو نوچ لیا گیا لیکن حکومت سے لے کر انصاف فراہم کرنے والے اداروں تک میوزیکل چیئر کا کھیل کھیلا جا رہا ہے اگر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے فرصت ملے تو کبھی عوام کی طرف بھی توجہ دیں یقین جانیے اس کا حساب آپ کو دنیا میں بھی دینا پڑے گا اور آخرت میں آپ کسی صورت بھی ڈھیل یا ڈیل کے مستحق نہیں قرار پائیں گے کیونکہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں صرف انصاف ہوتا ہے

دوسری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا جائے غرباء کی معصوم بچیوں کے ساتھ جو گھناؤنا کھیل روزانہ کھیلا جا رہا ہے حکومتوں اور عدلیہ کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی اس میں بھرپور کردار ہے عوام بھی قصوروار اس میں کم نہیں اگر حکومتِ وقت توجہ نہیں دے رہی تو عوام اپنی آنکھیں بند کیوں کیے ہوئے ہیں سوشل میڈیا پر تصویریں شیئر کرکے احتجاج کرکے عوام سمجھتی ہے اپنا حق ادا کر دیا زندہ قوموں کا یہ شیوا نہیں ہوتا وہ اپنے حق کے لئے اٹھ کھڑی ہوتی ہیں ساتھ میں خدارا اللہ تعالی کے قوانین کو اپنائیں کیوں کہ فلاح اسی میں ہے

اپنے نوجوان بچے بچیوں کی طرف خصوصی توجہ دیں گھروں میں گفتگو کا ماحول بنائیں جدید ٹیکنالوجی کے فوائد اور نقصانات سے ان کو آگاہ کریں بچوں کو خواتین کا احترام سکھائیں خواتین کو لباس پہننے کا احترام سکھائیں سوشل میڈیا ایپلی کیشنز پر واچ رکھیں الیکٹرونک میڈیا کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں جو ڈراموں اور فلموں کی صورت میں لچرپن کا اور بے ہودگی کا بیج ہماری نسلوں کی جڑوں میں بیج رہی ہے ڈراموں اور فلموں کی شکل میں

ہمارے ملک میں شیونگ ریزر تک کا اشتہار خاتون کے بغیر مکمل نہیں ہوتا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے یا پورا پورا اسلام میں داخل ہوجائیں یا پاکستان کا نام بدل کر وہ مذہب اختیار کر لیں جس کا ہماری خواتین لباس اپناتی ہیں ہمارے مرد حلیہ اپناتے ہیں

یاد رکھئے ہمارے معاشرے میں مرد جانور اسلئے ہے کیونکہ خاتون خاتون کا ریپ کر رہی ہے وہ بھی اپنی نمائش کی صورت میں مرد کو اپنی نگاہ اور عورت کو اپنے جسم کی حفاظت کرنا ہوگی تاکہ ہماری بچیوں اور بچوں کو نوچا نہ جائے

وسلام چوہدری نبی احمد ترجمان پاکستان پیپلز الائنس پارٹی


 



Posted By : Shafeeq Rabbani Leader of Pakistan Peoples Alliance Party
باجوہ عمران ایک پیج پر 

سال٢٠١٦ میں پاکستان کی معیشت بڑھ رہی تھی دنیا کہہ رہی تھی کہ ٢٠٢٥ تک پاکستان کی معیشت ایشیا کی سب سے بڑی تیز بڑھتی ہوئی معیشت ہو گی
ملک میں سیاسی استحکام تھا فوجی عدالتیں قائم تھیں
٢٠١٤ میں نواز پر دبائو تھا کہ امریکی خواہشات پر عمل درآمد اور سی پیک پر کام کو سلو کیا جائے اور ایک نیا معاہدہ کیا جائے اور جنرلز پر دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کا دبائو کم کیا جائے اور عالمی مالیاتی اداروں پر ہی انحصار رکھا جائے مضبوط معیشت کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں
٢٠١٤ میں ١٢٦ دن کا دھرنا نواز کو مضبوط معیشت کی طرف بڑھنے سے نہ روک سکا اور ٢٠١٦ میں کوشش تھی کہ چین سی پر انفراسٹرکش کے ٹھیکے ان ایل سی کے حوالے کئے جائیں٢٠١٧ میں ایکنامک کوآپریشن آرگنائزیزیشن پر کام تیز کر دیا گیا پاکستان ایران ترکی افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستیں اس کا حصہ ہیں فروری ٢٠١٧ میں اس تنظیم کے سربراہوں کا اسلام آباد میں اجلاس ہوا
پاکستان ایران کے تعلقات کو خراب کرنے کے لئے امریکی انفارمیشن پر کلبھوشن کی گرفتاری پر پروپیگڈا کہ وہ چاہ بہار ایران سے کام کر رہا تھا گرفتاری اسکی بلوچستاں سے ہوئی
پانامہ سے جولائی ٢٠١٧ میں نواز شریف کو فارغ کر دیا گیا اور ڈیفنس یونیورسٹی مین ایک معیشت پر کانفرنس سے سرمایہ کاروں کو پاکستان سے دور کرنے کی شعوری کوشش شروع ہوئی خاقان عباسی نے سی پہکپر پہلی فیز کا کام شیڈول کے مطابق مکمل کیا لیکن ٢٠١٨ الیکشن میں دھاندلا سے موجودہ حکومت قائم ہوئی معیشت کو ایک منصوبہ بندی سے عالمی مالیاتی اداروں کے آگے رہن رکھا گیا اور امریکی ڈکٹیشن پر عمل درآمد شروع ہوا سی پیک پر کام روک دیا گیا اور پاکستان اکو اتنا کمزور کیا گیا کہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ مکل ہوا اور محض لفاظی سے کشمیر مسئلہ کو زندہ رکھا جا رہا ہے ۔
اپوزیشن کے سیاست کار بھی جنرلز کی نرسری سے آئے سوائے سمجھوتوں سے سیاست نہیں سکتےقومی عوامی سیاست کرنے سے قاصر ہیں
پاکستان ایک نئی مڈل کلاس قومی قیادت کا طالب ہے جو مکمل ریفارم ایجندا کے ساتھ آئے اور خوداعتمادی سے ملک کے نظام کو درست کرکے اداروں کی مداخلت بند کرے
شفیق ربانی
پاکستان پیپلز الائنس




Posted By : Shafeeq Rabbani Leader of Pakistan Peoples Alliance Party
گوادر سی پیک معیشت 

سی پیک پر امریکی تسلی کے لئے عاصم باجوہکو کنٹرول دے دیا گیا بھول جائیں کہ کنٹرولڈ معیشت سے باہر نکل سکیں یاعالمی مالیاتی اداروں سے آزاد سی پیک کو پہلے امریکی ڈکٹیشن پر آہستہ کر دیا گیا اتنا آہستہ کہ نہ ہونے کے برابرجنوری 2017 میں صنعتی زونز میں صنعتوں کا قیام ہونا تھا نواز شریف حکومت ختم کر کے تسلی دی گءی ایف اے ٹی ایف کی تلوار میں مضبوط معیشت کے خواب کی تعبیر کجا 2030 تک امریکہ اور عالمی مالیاتی اداروں کی دسترس میں دے دیا گیا
وقت آگیا کہ ہم اس استعماری استحصالی تسلط کو مسترد کر کے متبادل قیادت پر کام کریں تاکہ جرات مند قیادت اس کنٹرولڈ نظام کو تہس نہس کرکے مضبوط معیشت پر مضبوط پاکستان کی بنیادیں رکھے
شفیق ربانی
پاکستان پیپلز الائنس
 



Posted By : Shafeeq Rabbani Leader of Pakistan Peoples Alliance Party
وزیر اعظم  باجوہ کے اقدامات حکومت کے اقدامات سے معیشت تباہ ہو گئی

وزیر اعظم  باجوہ کے اقدامات حکومت کے اقدامات سے معیشت تباہ ہو گئی معیشت کو عالمی مالیاتی اداروں کے پاس رہن اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے گورنر کا حساس عہدہ بھی آئی ایم ایف کے حوالے نتیجہ مہنگائی بیروزگاری غرباء کی تعداد میں اضافہ کارخانے بند ہو رہے ہیں کمرشل بینکوں سے قرضوں سے ڈالرز خرید کر اشاریے پیش کئے جا رہے ہیں عوام سخت تنگ لیکن باجوہ عمران مطمئن اور غلط اعداوشمار سے میڈیا کو بہلانے کی کوشش کر رہے ہیں مارکیٹ میں اعتماد نام کی کوئی چیز نہیں سی پیک روٹس پر صنعتی زونز میں انڈسٹری جنوری ٢٠١٧ مین لگنی تھی باجوہ داکترائن نے ریورس گئر لگایا اور اب صرف سی پیک پر بیانیوں سے دل بہلایا جا رہا ہے بیرون ملک اوورسیز کا پیسہ صنعتوں کی بجائے بحریہ ٹائون ڈی ایچ اے میں لگ رہا ہے آفیسر منافع کما کر بیرون ملک سرمایہ لگا رہے ہیں
فارن فنڈنگ کیس میں تلاشی کی بجائے اس کو ملتوی اور ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی بیں اسی لئے الیکشن کمیشن مکمل نہیں کیا گیا اور نئے الیکشن کمشنر کے لئے اپوزیشن سے مشورہ بھی نہیں کیا جا رہا نیب متنازعہ اور بلیک میلنگ کا زریعہ عوام کے مسائل سے ہتانے کے لئے میڈیا کو نواز کی بیماری کی طرف لگا دیا گیا کشمیر پر ہزیمت اور قوم کو اس جوڑی سے کیا کیا دیکھنا رہ گیا ہے
شفیق ربانی
پاکستان پیپلز الائنس

 



 

Posted By : Shafeeq Rabbani Leader of Pakistan Peoples Alliance Party
کرپشن دیکھنی ہے تو عمران کی کابینہ اور ترجمانوں کے اثاثوں کی تفتیش کراءیں

کرپشن دیکھنی ہے تو عمران کی کابینہ اور ترجمانوں کے اثاثوں کی تفتیش کراءیں
مہمند ڈیم دواءوں کی قیمتوں میں اضافہ کے اسکینڈل سے بڑے اسکینڈلز سامنے آءیں گے
عمران پیلے فارن فنڈنگ کیس پر ججز کو بلیک میل کرنا بند کرے اور تلاشی دے
علیمہ بہن اور دوسری بہنوں کی تلاشی بھی ہو کہ وہ کن زراءع آمدن سے ملٹی ارب پتی بنے یا بنیں
اس کے فرنٹ مین زلفی بخاری کو گرفتار کیا جائے
ادارے خبر لیک نہ کریں بلکہ نادرا کی خفیہ انفارمیشن کو ٹرانسفر کرنے پر اور پکڑے جانے پر گرفتار کر کے غداری کے جرم میں تفتیش اور ٹرائل کا بندوبست کیا جائے
قرضہ معاف مافیا جہانگیر ترین چودھری برادران فہمیدہ مرزا حنا ربانی کھرکے قانون سازی کر کے قرضے واپس لءے جائیں
شفیق ربانی
پاکستان پیپلز الائنس

 



Posted By : Shafeeq Rabbani Leader of Pakistan Peoples Alliance Party
 کمرشل بینکوں سے قرضے اور پھر ڈالر خرید کر اشاریے دکھانا قوم سے دھوکہ جھوٹ بددیانتی ہے


کمرشل بینکوں سے قرضے اور پھر ڈالر خرید کر اشاریے دکھانا قوم سے دھوکہ جھوٹ بددیانتی ہے
کیا انہیں صادق آمین کہیں یا چھوٹے دھوکہ باز بددیانت
باجوہ ڈاکٹراءن نے ملک کو نقصان پہنچایا اب ایکسٹینشن مزید غلطی کہ وہ امریکی ڈکٹیشن اور عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط پر عمل درآمد جاری رکھواءے
کشمیر بھارت سلب کر چکا اور یہ کشمیر پیٹھ دکھا کر بڑھکیں مارنے میں مصروف
این آر او بیانیہ پٹ گیا
منتیں سماجتیں کر کے نواز کو علاج کے باہر بھجوایا تاکہ
اپوزیشن کو کنٹرول کیا جا سکے اور حکومت کو بھی مکمل کنٹرول میں رکھا جائے
بے شک بھتے چندے کھائیں لیکن سونے تانبے کے زخاءر پر سولین کا حق نہیں دینا منی لانڈرنگ جاری ڈی ایچ اے بحریہ ٹاؤن اور دوسری ہاءوسنگ سوسائٹیوں کا پیسہ منی لانڈرر ہو رہا ہے نیب بے اثر
ملک میں اگر سمجھوتوں سے ہی سیاسی چہرے جاری رہے تو نہ مضبوط معیشت نہ استحکام اور نہ ہی دنیا میں وقار بحال ہو گا
ملک میں مکمل ریفارمز کے لئے قومی قیادت ابھاریں
شفیق رہانی
پاکستان پیپلز الائنس
 




Posted By : Shafeeq Rabbani Leader of Pakistan Peoples Alliance Party
پاکستان میں نئی متبادل مڈل کلاس ورکنگ کلاس قوت کی ضرورت

پاکستان اسلامی جمہوری ایٹمی ملک ہے بظاہر جمہوری نظام قائم ہے لیکن یہ جمہوری نہیں فاشسٹ سٹیٹ کی طرف گامزن ہے آءین کو پس منظر میں رکھ کر نان جمہوری نان منتخب قوتیں اس نظام کو کنٹرول کر چکی ہیں گزشتہ 2018 الیکشن میں آر ٹی ایس کو معطل کر کے مطلوبہ نتائج نکالے گئے جس سے سیلیکٹڈ وزیر اعظم کابینہ صدر سیلیکٹڈ سینٹ چیرمین مقرر ہوءے اب آرمی چیف کی ایکسٹینش کے ساتھ سیلیکٹڈ سیٹ اپ مکمل کیا گیا
معیشت کو ایک منظم انداز میں گرایا گیا اور موجودہ دور میں عالمی مالیاتی اداروں کے حوالے ہوا
امریکی ڈکٹیشن پر امریکی شرائط کو پورا کیا جا رہا ہے
کشمیر آزاد کرانے کی بجائے بھارت قبضہ کر چکا جنرلز کا بار بار بیانیہ کہ کنٹرول لاءن کے پار آءے تو دفاع ہو گا گویا مقبوضہ کشمیر سے ہاتھ دھو کر صرف تقریروں کی زینت بنا دیا گیا
ایک خاموش ایٹمی پروگرام پر امریکہ کے ساتھ مفاہمت کے ساتھ پیش رفت جاری
ملک کے ہیروز ڈاکٹر عبدالقدیر ڈاکٹر ثمر مبارک مند مبارک قاءد اعظم علامہ اقبال آءین کے خالقوں کو قومی بیانیہ سے ہٹا دیا گیا اور ہٹایا جا رہا ہے
فاشسٹ نظام میں اپوزیشن مین اسٹریم قیادت کو مقدمات بلیک میلنگ پروپیگنڈہ اور میڈیا سے غیر موثر کر دیا گیا
دینی جماعتوں کو میڈیا میں تضحیک کا نشانہ بنا کر عوام کی نظروں سے گرایا جا رہا ہماری اسلامی شناخت کو مسخ کرنے کا کا کام قادیانیوں اور ان کے ہمدردوں سے لیا جا رہا ہے تعلیمی نصاب یو ایس ایڈ سے تیار کردہ نافذ ہے جس سے قومی اسلامی حمیت کا خاتمہ کرنے کے منصوبہ پر کام جاری
1980 کی دہائی سے ملک میں قومی سیاست کو پنپنے ہی نہیں دیا لسانی صوبائی فرقہ ورانہ تعصبات کو سیاست میں داخل کیا امریکی سی آئی اے فنڈنگ سے شدت پسندی دہشت گردی کا فروغ کیا تاکہ ہماری پرامن اسلامی پاکستانی شناخت کو تباہ کیا جاءے
دنیا ساتھ دے کہ صرف عسکری قیادت ہی پاکستان کی بقاء کے لئے ضروری ہے حالانکہ عسکری قیادت اور آءین نہ ہونے کی وجہ سے ہی سقوط ڈھاکہ ہوا
ملک میں سیاسی قیادتوں میں ایجنسیوں کے پلانٹڈ لوگ موجود تاکہ اس فاشسٹ نظام کا مقابلہ کرنے کے لئے قومی قیادت سامنے نہ آسکے
عوام کے لئے اب فیصلہ کرنے کا وقت آگیا کہ وہ موجودہ ایجنسیوں کی پیدا کردہ سیاسی اور غیر سیاسی قیادت کے مقابلہ میں قومی قیادت کو ابھاریں
قارئین پاکستان پیپلز الائنس کا حصہ بن کر اس استحصالی استعماری نظام اور قیادت کا مقابلہ کیا جاءے ممکن ہے اگر عوام بھرپور ساتھ دیں تو ملک کی بقاء بھی ہو گی مضبوط معیشت کی بنیادیں قائم ہوں گی اور ہم استعماری استحصالی قوتوں اور عالمی مالیاتی اداروں کی سازشوں کو شکست فاش دیں گے
شفیق ربانی
صدر
پاکستان پیپلز الائنس


Posted By : Ch Nabi Ahmed - Pakistan Peoples Alliance Party
بھلا ہو عمران خان


السلام علیکم

میرے محترم پاکستانیوں کافی عرصے بعد کوئی تحریر لکھنے بیٹھا ہوں اسٹیبلشمنٹ سیاسی لفنگے لوٹے مہروں کے خلاف لکھتے ہوئے دو سال کا عرصہ تقریبا بیت چکا کہتے ہیں سچائی اور آگاہی بہت بڑی سزا ہے سکون چین سب چھین لیتی ہے لیکن دیوانہ پن یا بے خبری صرف بربادی کا دہانہ ہے جو شخصیات کے ساتھ ساتھ معاشروں اور ملک کو تباہ و برباد کر دیتا ہے پر اس میں سکون بھی ہے

فطرت ایسی نہ تھی جب بھی سچ کے لئے قلم اٹھایا بدتمیزی اور گالیوں کا سامنا کرنا پڑا معاشرے میں موجود سیاسی پیراسائٹس نے گالیوں سے ہمیشہ تواضع کی بہت اچھے دوستوں سے ہاتھ دھونا پڑا بہت ساری محفلوں سے نکال دیا گیا کمال کی بات ہے وہ سارے سیاسی مہرے جو اسٹبلشمنٹ استعمال کرتی رہیں یا کر رہی ہے ایک ایک کرکے ان سب کے چہروں سے نقاب اُٹھ گیا تو دل سے ایک ہی آواز آئی تھو ھے ایسے نظام پر جس میں کچرا چننے والوں سردیوں کی رات کو گرم انڈے بیچنے والے بچوں مجبور و بیکس گدھا گاڑی کی مزدوری کرنے والے بزرگوں ایمانداری سے کرنے والے کاروباری حضرات حتیٰ کے اپنا جسم بیچ کر روزی کمانے والی خواتین کے ٹیکس کے پیسوں سے پلنے والے وہ اسٹبلشمنٹ کے جرنلز جن کی آبرو رکھنے کے لیے غرباء کے بچے وردی پہن کر ملک کی حفاظت کے لیے سرحدوں پر اپنی جانیں نچھاور کرتے ہیں وہ پاکستانی عوام کہ ووٹ چوری کرتے ہیں سیاسی مہرے بناتے ھیں اور قوم پر مسلط کرتے ہیں تاکہ ان کی بادشاہت برقرار رہ سکے بقول تاریخ کے ایک بڑے مہرے ٹولے چوہدری برادران کے کے شجاع پاشا انکی پارٹی سے بندے توڑ کر تحریک انصاف بناتا رہا تھو ہے ایسے نظام پر

قوم کو وفاداری کا پارٹ پڑھانے والے سارے آرمی چیف باہر بیٹھے ہیں اور جنرل مشرف جو کھلے عام آڈر دیتا رہا لانگ مارچ میں دھماکہ کروا دو بارہ مئی کا واقعہ سب کو یاد ہوگا کیا چودھری پرویزالٰہی کا انٹرویو ثبوت نہیں غداری کا تھو ہے ایسے نظام پر کیا یہ ہیں وہ وردی والے جو ہماری حفاظت کرتے ہیں کیا یہ وہ لوگ ہیں جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کے ضامن ہے

میں حیرت زدہ بھی ہوں اور انتہائی پریشان بھی اور دکھی بھی ہماری آخرت ہماری پہچان اسلام کو نقصان پہنچایا گیا ہم چپ رہے ہماری مسجدوں میں دھماکے ہوئے چرچوں کو نذر آتش کیا گیا بازاروں کو خون آلود کیا گیا ہمارے اسکول جاتے بچوں کو نوچ لیا گیا ہم چپ رہے بحثیت قوم کتنے بے حس ہیں ہم اور آج پاکستان شدید خطرے میں ہے لیکن کمال کی بات ہے آج بھی ہم چپ ہیں ہر چیز ہماری آنکھوں کے سامنے لوٹتی جارہی ہے ہم چپ ہیں میں سوال کرتا ہوں کیا ہم زندہ ہیں

آخر میں میں عمران خان صاحب کا بڑا شکر گزار ہوں جھولیاں اٹھا کر دعائیں دینے کو دل کرتا ہے 70 سال سے جو ہمارے ملک کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہے ہماری آنکھوں میں دھول جھونکتے رہے سیاسی پیراسائٹس سے مل کر لوٹے مہرے سلیکٹ کرتے رہے عمران خان صاحب نے سلیکٹ ہوتے ہی اپنے ساتھ ساتھ ستر سال سے چھپے ہوئے اس ناسور کا منہ بھی کالا کروا دیا جو ہمیشہ پاکستان کی اکائی کو نقصان پہنچاتا رہا پاکستان کو کمزور کرتا رہا

وسلام چوہدری نبی احمد ترجمان پاکستان پیپلز الائنس پارٹی


Posted By : Mehboob Aslam - Pakistan Peoples Alliance Party
اھلیان پاکستان


السلام وعلیکم

جو حضرات مجھے گذشتہ پانچ سالوں سے پڑھ رھے ھیں اور فالو کر رھے ھیں وہ بخوبی جانتے ھیں کہ میراتعلق پی ٹی آئی سے تھا اور ملک میں کرپٹ سیاستدانوں اور فوج کے بیچ میوزیکل چئیر کے اس گندے دھندھے میں عمران خان کے ایاک نعبدو وایاک نستعین کے کلمہ حق کو سن کر لگا کہ میرے دل کی آواز ھے۔ یوں ملک سے باھر رھتے ھوئے بھی عمران خان کی تبدیلی کی آواز پر صدق دل سے لبیک کہا۔ اور پی ٹی آئی کیلئے دن رات کام کیا اور امریکہ میں پارٹی کی فنڈ ریزنگ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہاں تک عمران خان نے ذاتی طور پر شکریہ ادا کیا اور 2013 کے قومی الیکشن میں بھی امریکہ سے آکر پی ٹی آئی کی الیکشن مہم میں حصہ لیا اور تقریباً ھر نام نہاد پارٹی لیڈر کہ مالی امداد بھی کی۔۔۔لیکن پھر اسی الیکشن میں جب پارٹی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو بات کچھ کچھ سمجھ آنا شروع ھوئی کہ تبدیلی والا معاملہ گڑ بڑ ھی ھے؟؟؟

پھر اسی اثنا میں اکبر شیر بابر سے ملاقات ھوئی اور کچھ مزید نظریاتیوں سے ملنے کا موقع ملا تو چودہ طبق روشن ھوگئے۔ پارٹی کی وہ فنڈنگ جوھم امریکہ میں دن رات لگا کر ایک روشن اور نئے پاکستان کیلئے جمع کر رھے تھے وہ پاکستان میں پارٹی کے نام نہاد لیڈر جیسے سابقہ ایڈیشنل سیکریٹری اور موجودہ چیف آرگنائیزر سیف اللہ نیازی اور سینیئر صدر عامر کیانی جیسے گھٹیا اشخاص دونوں ھاتھوں سے لوٹ رھے تھے اور اس پیسے سے ذاتی کاروبارکھڑے کر چکے تھے۔ اور تو اور موجودہ صدر عارف علوی اور عمران خان یہ سب جانتے تھےاور انکی سر پرستی بھی ان نام نہاد پارٹی لیڈروں کو حاصل تھی؟؟؟

اور اسکا ثبوت 2014 میں میری عمران خان سے بنی گالہ میں وہ ملاقات تھی جس کیلئے مجھےعمران خان نے خود بلایا اور پہلے منت ترلہ کیا کہ اس پارٹی فنڈز کی چوری پر مٹی پاؤ لیکن میرے احتساب کے اصرار پر عمران خان نے میرا گریبان پکڑ لیا۔۔۔ایاک نعبدو وایاک نستعین کی اس نئی ”تشریح“ نے میرا باطن روشن کر دیا۔ اور پھر یہی ثبوت پارٹی کے فرانزک آڈٹ میں سامنے آئے اور آج یہ ثبوت فارن فنڈنگ کیس میں ثبوت کے طور پر داخل عدالت ھیں۔

دوسری طرف عمران خان نے پارٹی کے نظریات کو پرویز خٹک، جہانگیر ترین اور علیم خان جیسے کرپٹ کے ھاتھوں کھلونا بنا دیا۔ آپ کو یاد ھوگا کہ جب جسٹس وجیہ الدین جیسے با اصول شخص نے اس کرپٹ ٹولے کااحتساب کرنا چاھاتو عمران خان نے ایکبار پھر آگے بڑھکر الٹا جسٹس وجیہ الدین کی پارٹی رکنیت معطل کر دی۔ پھر یہی نہیں جب کے پی کے احتساب کمیشن نے پرویز خٹک اور جہانگیر ترین کی کرپشن پر ھاتھ ڈالنا چاھا تو ایکبار پھر یہ عمران خان ھی تھا جس نے پرویز خٹک کو شہ دی کہ وہ احتساب کمیشن کے اختیار ھے سلب کر لے۔۔۔تبدیلی کی جو درگت پھر ھم سب نے بنتے دیکھی وہ تکلیف دہ بھی تھی اور مایوس کن بھی۔ جن روایتی کرپٹ سیاستدانوں اور فوجی جرنیلوں کو عمران خان گالیاں دیا کرتاتھا وہ ایک ایک کر کے پی ٹی آئی میں آتے چلے گئے اور عمران خان کمال بے شرمی سے تبدیلی کا ناٹک بھی کرتا رھا اور پھر ایک وقت آیا کہ عمران خان نے ایمپائیر کی انگلی سر بازار مانگ لی؟؟؟

ھم ھر اس دھوکے پر عمران خان کو بے نقاب کرتے رھے اور ھر ھر مرحلے پر یہ تبدیلی کی آڑ میں چھپا کرپٹ مافیا عوام کو سہانے خواب بیچتا رھا اور انکا سب سے بڑا سیلز مین کوئی اور نہیں بذات خود عمران خان تھا۔

اور آج عمران خان جو انصاف انصاف چیخ رھاھے خود پچھلے پانچ سال سے فارن فنڈنگ کیس میں عدالت سے بھاگ رھا ھے۔ دو نہیں ایک پاکستان کاداعی اپنی ذات کیلئے ھمیشہ دو ھی پاکستان دیکھنا چاھتا ھے۔۔۔اور سب سے بڑا شرمناک پہلو یہ ھے کہ یہ شخص اقتدار کیلئے اپنے ھی نظریات کو بیچ چکا ھے۔۔۔ھمیں تو خیر بہت پہلے معلوم ھو چکا تھا لیکن اب چودھری پرویز الہی جو عمران خان کے بقول پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ھے نے عمران خان اور فوج کی ملی بھگت کو سرے عام برھنہ کر دیا ھے۔ آج سارا پاکستان جان چکا ھے کہ تبدیلی کو بیچ کھایا گیا اور پاکستان پر آج بھی وھی بوٹ والی سرکار راج کر رھی ھے جس نے محترمہ فاطمہ جناح کا حق مارا۔۔۔کرپشن نہ پہلے ان لوگوں کیلئے کوئی مسئلہ تھا اور نہ آج ھے۔۔۔ مسئلہ صرف حصہ داری کا ھے۔۔۔لیکن اسدفعہ کا منتخب ”گھوڑا“ اتنی جلدی ”گدھا“ ثابت ھوگا یہ انھوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ھوگا۔۔۔لیکن انکا یہ بے شرم کھیل اور عمران خان کا دوغلہ پن بھی یوں اتنی جلدی آشکار ھو جائیگا اسکی بھی لوگوں کو امید کم ھی تھی۔۔۔لیکن مجھے یقین تھا کہ جو شخص اللہ کے پاک کلمے ایاک نعبدو وایاک نستعین کو یوں منافقت کے طور پراستعمال کریگا وہ دین اور دنیا دونوں میں ذلیل ھوگا اور یہ وقت بہت جلد آ گیا؟؟؟

دکھ صرف اس بات کا ھے کہ اب یہ قوم تبدیلی کے نام پر کبھی بھروسہ نہیں کریگی جب کہ اس ملک کو اصل اور حقیقی تبدیلی کی جتنی ضرورت آج ھے وہ پہلے شاید کبھی نہ تھی؟؟؟

تو اھل وطن حوصلے بلند رکھیں اور ان بیغیرتوں کو پہنچاتے ھوئے اپنے حق کیلئے جدوجہد جاری رکھیں۔ یاد رکھئیے اس قوم کا مستقبل ان فراڈیوں اور فوج کے ماموں کے ھاتھوں میں نہیں ھے بلکہ آپ کے ھاتھوں میں ھے۔ آپ اچھی قیادت کو سامبے لائیں اور اس ٹوپی ڈرامے کو سمجھیں!!!

اللہ پاکستان کاحامی و ناصر ھو۔
آمین
محبوب اسلم